باب

1 ۔ اِسرائیل کی شِکسَت اَور سمُوئیل کی بات تمام اِسرائیل تک پہنچی ۔ اُن دِنوں میں فلِستی اِسرائیل سے لڑنے کے لئے جمع ہوئے۔ اَور اِسرائیل نے اُن کے خلاف جنگ کے لئے نِکل کر ابن ِ عزرکے پاس ڈیرا کِیا۔ اَور فلِستی افیق میں جا اُترے۔ 2 ۔ اَور فِلستیوں نے اِسرائیل کے مُقابلے میں صف آرائی کی۔اَور لڑائی لڑنے لگے۔ تو اِسرائیل نے فِلستیوں کے سامنے سے شِکسَت کھائی اَور اُنہوں نے لشکر میں سے میدان میں قریباً چار ہزار آدمی قتل کِئے۔ 3 ۔ تب لوگ خَیمہ گاہ کو واپس آئے۔ اَور اِسرائیل کے بزُرگوں نے کہا۔ کہ خُداوند نے ہمیں فِلستیوں کے سامنے سے کیوں شِکسَت دی۔ آؤ ہم خُداوند کا صندُوق سیلا سے اپنے پاس لے آئیں۔ تو وہ ہمارے درمیان ہو۔ تاکہ ہمارے دُشمنوں کے ہاتھ سے وہ ہمیں رہائی دِلائے۔ 4 ۔ تو لوگوں نے سیلا میں آدمی بھیجے۔ اَور وہ کروبیوں کے اوپر بیٹھنے والے ربُّ الافواج کے عہد کے صندوق کو وہاں سے اُٹھا لائے۔ اَور وہاں عیلی کے دونوں بیٹے حفنی اَور فیخاس خُداوند کے عہد کے صندُوقِ کے ساتھ تھے۔ 5 ۔ اَور جب خُداوند کے عہد کا صندُوقِ لشکر گاہ میں پُہنچا۔ تو تمام اِسرائیل نہایت بڑے زور سے للکارے۔ ایسا کہ زمین کانپ اُٹھی۔ 6 ۔ اَور فِلستیوں نے للکارنے کی آواز سُنی تو کہا۔ کہ عبِرانیوں کے لشکر گاہ میں یہ کیسی بڑی للکارنے کی آواز ہے۔ تو اُنہیں بتایا گیا۔ کہ خُداوند کا صندُوق لشکر میں آیا ہے۔ 7 ۔ تب فِلستی گھبرائے اَور کہا۔ اُن کے معبُود لشکر گاہ میں آئے۔ اَور اُنہوں نے کہا کہ ہم پر واویلا۔ کیونکہ ایسی بات کل اَور اُس سے پہلے نہیں ہوئی۔ 8 ۔ ہم پر واویلا ہے! کون ہمیں اُن زور آور معبُودوں کے ہاتھ سے چھُڑائے گا؟ یہ وہی معبُود ہیں۔ جِنہوں نے مصِر کو تمام آفتوں سے بِیابان میں مارا۔ 9 ۔ اَے فلِستِیو! دلیری کرو۔ اَور مَرد بنو۔ تاکہ تُم عبِرانیوں کی غُلامی نہ کرو جس طرح کہ وہ تُمہاری غُلامی کرتے تھے۔ پس مَرد بنو اَور لڑو۔ 10 ۔ اَور فِلستی لڑے۔ تو اِسرائیل کو شِکسَت ہوئی۔ اَور وہ سب اپنے اپنے خَیمے کو بھاگے۔ اَور نہایت بڑی خُون ریزی ہوئی۔ اَور اِسرائیل میں سے تیس ہزار آدمی مارے گئے۔ 11 ۔ اَور خُداوند کا صندُوق چِھن گیا۔ اَور عیلی کے دونوں بیٹے حفنی اَور فیخاس قتل کِئے گئے۔ 12 ۔ عیلی کے گھر کی ہلاکت تب بِنیمِین کا ایک مَرد لشکر سے دوڑا۔ اَور اپنے کپڑے پھاڑے ہوئے اَور اپنے سر پر خاک ڈالے ہوئے اُس روز سیلا میں آیا۔ 13 ۔ جب وہ آیا تو عیلی راہ کی ایک طرف کُرسی پر بیٹھا ہوا اِنتظار کررہاتھا۔ کیونکہ اُس کا دِل خُدا کے صندُوق کے لئے خوفزدہ تھا۔ اَور اُس آدمی نے آکر شہر میں خبردی۔ تو سارا شہر چِلّایا۔ 14 ۔ اَور عیلی نے چِلّانے کی آواز سُنی۔ تو کہا کہ یہ شور کیسا ہے؟ تو وہ آدمی جلدی کرکے آیا۔ اَور عیلی کو خبردی۔ 15 ۔ اَور عیلی اٹھانوے برس کا تھا۔ اَور اُس کی آنکھیں دُھندلی ہوگئی تھیں۔ اَور وہ دیکھ نہ سکتا تھا۔ 16 ۔ لہٰذا اُس آدمی نے عیلی سے کہا۔ کہ مَیں لشکر سے آتاہوں۔ اَور مَیں آج ہی لشکر سے بھاگا۔ تو اُس نے کہا۔ اَے میرے بیٹے! کیا خبر لایا ہے؟ 17 ۔ تو خبر دینے والے نے جَواب میں کہا۔ کہ اِسرائیل نے فِلستیوں کے سامنے سے شِکسَت کھائی۔ اَور لوگوں میں سخت خُون ریزی ہوئی۔ اَور تیرے دونوں بیٹے حفنی اَور فیخاس قتل کِئے گئے۔ اَور خُدا کا صندُوق چھن گیا ہے۔ 18 ۔ اَور جب اُس نے خُدا کے صندُوق کا ذِکر کِیا۔ تو وہ کُرسی پر سے پچھلی طرف کو دروازے کے پاس گِرا۔ اَور اُس کی گردن کی ہڈّی ٹوٹ گئی اَور وہ مَرگیا۔ کیونکہ وہ بُوڑھا اَور بھاری تھا۔ اَور وہ چالیس برس تک اِسرائیل پر قاضِی رہا۔ 19 ۔ اَور اُس کی بہو فیخاس کی بیوی حامِلہ تھی اَور اُس کے جننے کے دِن نزدِیک تھے۔ تو جب اُس نے سُنا۔ کہ خُدا کا صندُوق چھِن گیا ہے۔ اَور اُس کا سُسر اَور شوہر دونوں مَرگئے۔ تو وہ جُھک گئی اَور دردِ زہ اُس کے لگنے لگے اَور اُس سے بیٹا ہوا۔ 20 ۔ جب وہ مَوت کے قریب تھی۔ تو اُنہوں نے جو اُس کے پاس تھے اُس سے کہا۔ مت ڈر۔ کیونکہ تُجھ سے بیٹا ہوا ہے۔ تو اُس نے جَواب نہ دِیا اَور نہ اُس کے دِل نے توجُّہ کی۔ 21 ۔ اَور اُس نے اُس لڑکے کا نام یکبود رکھّا۔ اَور یہ کہا کہ اِسرائیل سے حشمت جاتی رہی۔ کیونکہ خُدا کا صندُوق چھِن گیا تھا۔ اَور نیز اپنے سُسر اَور شوہر کے باعِث۔ 22 ۔ تو اِس لئے اُس نے کہا کہ اِسرائیل سے حشمت جاتی رہی۔ کیونکہ خُدا کا صندُوق چھِن گیا تھا ۔